بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مردے کو دفن کرتے وقت پل کی مٹی قبر میں ڈالنا

سوال

1۔ مردے کو دفن کرتے وقت پل کی مٹی قبر میں ڈالی جاتی ہے، کیا ایسا کرنا صحیح ہے؟ اگر کسی نے انجانے  میں  ایسا کیا تو اس کا کیا حکم ہے؟

2۔ اگر کوئی شخص ایک نام سے قربانی میں دو حصے کرنا چاہے تو کرسکتا ہے؟

جواب

1۔ مردے کو دفن کرتے وقت  مذکورہ مٹٰی قبر میں ڈالنے  کی شرعاً  کوئی حقیقت نہیں ،بلکہ اس کو کارِ ثواب سمجھ کر کرنا بدعت ہے، اگر ایسا کرلیا ہو تو استغفار کریں ، البتہ قبر کھود کر اس کو نکالنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

2۔ جس شخص پر قربانی واجب ہو، ایک حصہ قربانی کرنے سے اس کا واجب ادا ہوجائے گا، اس کے لیے دو حصے قربانی کرنا بھی جائز ہے، ایک سے واجب ادا ہوگا اور دوسرا نفل ہوگا ، اور زیادہ اجر کا باعث ہوگا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200876
تاریخ19-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں