بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حارث اور ریان نام رکھنا

سوال

''حارث'' اور ''ریان'' نام رکھنا کیسا ہے؟ ایک بڑے عالمِ دین نے فرمایا ہے کہ یہ نام رکھنا درست نہیں ہے ۔جواب تفصیل سے عنایت فرمادیں گے تو نوازش ہوگی۔

جواب

''حارث'' نام تو حدیث کی رو سے پسندیدہ ہے اور ''ریان'' کامعنی بھی درست ہے۔
'' عن أبي وهب الجشمي وكانت له صحبة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « تسموا بأسماء الأنبياء، وأحب الأسماء إلى الله عبد الله وعبد الرحمن، وأصدقها حارث وهمام، وأقبحها حرب ومرة »''. (سنن ابی داود،باب فی تغییر الاسماء:۴ /۳۳۴،رقم الحدیث:۴۹۵۲،ط:دارالکتاب العربی،بیروت)
''  عن سهل بن سعد رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « إن في الجنة باباً يقال له: "الريان"، يدخل منه الصائمون يوم القيامة، لايدخل معهم أحد غيرهم، يقال: أين الصائمون؟ فيدخلون منه، فإذا دخل آخرهم أغلق فلم يدخل منه أحد »''. (صحیح مسلم،باب فی فضل الصیام:۳ /۱۵۸،رقم الحدیث:۲۷۶۶،دارالجیل بیروت)
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200842
تاریخ18-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں