بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سرکاری ملازم کا گاڑی خریدنے کے لیے سودی قرض لینا

سوال

ایک سرکاری ملازم کو اگر گاڑی لینی ہو اور اس کے پاس پیسے بھی موجود ہو ں، مگر اس کو بینک سے ضروری لون لینا پڑتا ہے،  اور پھر سود دینا پڑتا ہے اور اگر وہ نقد ہی سب ہی پیسے دے دے تو سرکار اس پر انکوائری بٹھائے  گی کہ آپ نے یہ پیسہ کہاں سے لایا اور پھر ہر سال پیسوں کا حساب دینا پڑے گا ،تو اس میں کیا کیا جائے؟

جواب

بینک سے سودی قرضہ لینا کسی صورت جائز نہیں،اگر تفتیش کا خوف ہے تو آپ اپنی حلال آمدن کے ذرائع سرکار سے پوشیدہ نہ رکھیں،اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو کسی سے غیر سودی قرض لے کر اسے ظاہر کریں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200841
تاریخ18-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں