بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر صاحب نصاب کا زکاۃ لینا، وکیل کا خود زکاۃ استعمال کرنا

سوال

1: ایک آدمی کی بیوی صاحب نصاب ہے، شوہر کے پاس جوکچھ ہے  وہ بھی بیوی کے نام پرہے۔یہ آدمی صاحبِ نصاب نہیں۔اگریہ زکات کی مد میں کچھ لیتاہے تواس کے لیے لیناشرعاًجائز  ہے یا نہیں؟

2:ایک عالم جوکہ صاحبِ نصاب نہیں وہ کسی سے کہتاہے کہ ایک عالم ضرورت مند ہے، مستحق ہے، اگرآپ تعاون کریں تو بہترہوگا، دل میں اپنے آپ کو ہی مراد لیاہے، تواب یہ رقم اپنے لیے استعمال کرسکتاہے یا نہیں؟ یہ طریقہ سوال کی وعید سے بچنے کے لیے کرتے ہیں۔ کیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟

جواب

۱۔اگر شوہر صاحبِ نصاب نہیں تو اس کے لیے زکاۃ  لینا جائز ہے۔

۲۔اس صورت میں مذکورہ شخص زکاۃ  کی رقم خود استعمال کرسکتا ہے،اگر واقعی ضرورت مند ہونے کی وجہ سے ایسا کیا ہے تو سوال کرنے کی وعید لازم نہیں ہوگی، اور اگر بلاضرورت سوال کیا ہے تو وعید کا مصداق ہوگا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200840
تاریخ17-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں