بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چاند رات کی مبارک باد دینا

سوال

کیا چاند رات کی مبارک باد دینا جائز ہے، جس طرح ہم لوگ اکثر کہتے ہیں: ''چاند رات مبارک''،  پھر کہتے ہیں: ''عید مبارک''۔ میرا سوال چاند رات کے بارے میں ہے۔ راہ نمائی فرمائیں!

جواب

عید یا رمضان المبارک کی چاند رات کی مبارک باد دینا اس رات کے بابرکت ہونے کی دعا دینا ہے جو کہ بذات خود جائز ہے،لیکن اس کا اہتمام و التزام درست نہیں، اور نہ ہی اس میں کوئی ثواب ہے، لہذا مبارک باد کے پیغامات ارسال کرنے کی بجائے اس قیمتی رات کو عبادت میں صرف کرنا چاہیے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200822
تاریخ15-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں