بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سفر میں روزہ رکھنے کا حکم

سوال

میں ملتان میں رہتاہوں, میں کراچی پندرہ دن کے لیے جارہاہوں ،راستے میں روزہ رکھ کر جانا کیساہے؟

جواب

  اگر سفر کے دوران روزہ رکھنے  میں  سہولت ہے، دشواری نہیں  ہے تو روزہ رکھ لینا بہتر ہے، اگر روزہ رکھنے میں مشقت اور دشواری ہے تو  اس صورت میں روزہ نہ رکھنے کی بھی اجازت ہےاور بعد میں اس روزہ کی قضا کرلے۔ البتہ اگر سحری کے انتہائے وقت تک اپنے شہر میں ہو تو اس دن روزہ رکھنا ضروری ہوگا۔

 ''(ويندب لمسافر الصوم) لآية - ﴿ وَأَنْ تَصُوْمُوْا ﴾ [البقرة: 184]- والخير بمعنى البر لا أفعل تفضيل (إن لم يضره) فإن شق عليه أو على رفيقه فالفطر أفضل ؛ لموافقته الجماعة''. (فتاوی شامی (2/ 423) کتاب الصوم، ط: سعید)  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200789
تاریخ14-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں