بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 جُمادى الأولى 1448ھ 29 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام کے پیچھے قراءت کرنا

سوال

کیا ظہر اور عصر کی نماز میں امام کے پیچھے قراء ت پڑھنا چاہیے یا خاموش رہنا چاہیے؟

جواب

امام کی اقتدا میں نماز پڑھتے ہوئے قراءت کرنا مکروہِ تحریمی ہے،سری اور جہری نماز دونوں کا یہی حکم ہے،لہذا امام کے پیچھے خاموش رہنا چاہیے۔جیسا کہ حدیث مبارک میں ہے:

'' عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ، قَالَ : كُلُّ مَنْ كَانَ لَهُ إمَامٌ ، فَقِرَاءَتُهُ لَهُ قِرَاءَةٌ ''.(مصنف ابن أبي شيبة ، کتاب الصلاة، من کره القراءة خلف الإمام:1 / 377،رقم الحدیث:۳۸۲۳،ط:دارالسلفیة الهندیة)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200784
تاریخ14-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں