بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

معتکف کا روزانہ غسل کرنا

سوال

اعتکاف کی حالت میں روزاںہ غسل کرنا کیسا ہے؟

جواب

معتکف پر اگر غسلِ جنابت واجب ہو گیا ہو تو اس کے لیے تو معتکف کا مسجد سے نکل کر غسل کرنا جائز بلکہ ضروری ہے خواہ روزانہ کیوں نہ ہو،  البتہ ٹھنڈک کے لیے غسل کی نیت سے جانا معتکف کے لیے جائز نہیں، ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ جب پیشاب کا تقاضا ہو تو پیشاب سے فارغ ہوکر غسل خانے میں دو چار لوٹے بدن پر ڈال لے، جتنی دیر میں وضو ہوتا ہے، اس سے بھی کم وقت میں بدن پر پانی ڈال کر آجائے، لیکن اسے روز کا معمول نہیں بناناچاہیے، جب سخت ضرورت ہو تو ایسا کرلیا جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200745
تاریخ12-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں