بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکات کی ادائیگی کا وکیل خود زکات استعمال نہیں کرسکتا

سوال

میری ہمشیرہ نے مجھے زکاۃ کا وکیل بنایا ہے اور چھ ہزار روپے دیے ہیں کہ کسی مستحق کو دے دوں ، میں خود بھی زکاۃ کا مستحق ہوں کوئی روزگار نہیں ہے، بیوی اور بچہ بھی ہے،کیا میں اپنی ہمشیرہ کو بتائے بغیر زکاۃ کا پیسہ خود استعمال میں لاسکتا ہوں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں چوں کہ آپ کی ہمشیرہ نے زکاۃ کی رقم کسی مستحق کو دینے کے سلسلہ میں آپ کو اپنا وکیل بنایا ہے، لہذا آپ ہمشیرہ کی اجازت کے بغیر مذکورہ زکاۃ کی رقم اپنے استعمال میں نہیں لا سکتے اور اپنے علاوہ کسی اور مستحق تک پہچانا آپ پر لازم ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200742
تاریخ12-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں