بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام کے ساتھ ایک رکعت ملی تو بقیہ نماز کیسے ادا کریں؟

سوال

جب چار رکعات نماز میں تین رکعات فوت ہو جائیں تو فوت شدہ تین رکعات کس ترتیب سے پڑھنی چاہییں؟ یعنی کون سی رکعات میں سورت پڑھنا چاہیے؟ مہربانی کر کے راہ نمائی کریں!

جواب

چار رکعت والی نماز میں امام کے ساتھ اگر ایک رکعت ملی تو بقیہ نماز اس طرح ادا کرے کہ اٹھ کر سبحانک اللّٰهم (ثناء) پڑھ کر  أعوذ بالله و بسم الله پڑھ کر سورہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھے، پھر رکوع سجدہ سے فارغ ہو کر بیٹھ کر التحیات پڑھے، کیوں کہ یہ مجموعی اعتبار سے اس کی دوسری رکعت ہے، تشہد سے فارغ ہو کر کھڑا ہو جائے اور بسم الله پڑھنے کے بعد سورہ فاتحہ اور کوئی  سورت پڑھے اور پھر رکوع سجدے سے فارغ ہو کر فوراً کھڑے ہوجائے اور پھر بسم اللهاور سورہ فاتحہ پڑھ کر رکوع کرے اور بقیہ نماز مکمل کرلے. جیساکہ ''فتاوی شامی'' میں ہے:

''( و المسبوق من سبقه الإمام بها أو ببعضها وهو منفرد) حتي يثني و يتعوذ و يقرأ...تفريع علي قوله منفرد فيما يقضيه بعد فراغ إمامه، فيأتي بالثناء و التعوذ؛ لأنه للقراءة، و يقرأ؛ لأنه يقضي أول صلاته في حق القراءة، كما يأتي، حتي لو ترك القراءة فسدت''. ( باب الإمامة، مطلب فيما لو أتى بالركوع أو السجود ، ط:سعيد)۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200730
تاریخ12-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں