بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیعت کی ضرورت

سوال

زید جن سے بیعت تھا ان کے انتقال کو ایک عرصہ گزر چکا ہے، اس عرصے میں زید ابھی تک بیعت نہیں ہوا   تو آیا اس صورت میں زید کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑےگا؟ کیا شریعت میں اس کوئی حقیقت ہے؟( یہ بیعت تزکیہ نفس ہے )

جواب

موجودہ پرفتن دور میں بہتر یہی ہے کہ کسی مستند شیخ سے بیعت ہوجائے تاکہ  ان کی صحبت کی برکت سے اللہ پاک فتنوں سے محفوظ رکھیں، لیکن اگر بیعت نہیں ہوتا اور دین کے اوامر و نواہی کی رعایت کر کے زندگی گزارتا ہے تو ایسا ضروری نہیں کہ اس کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، بہرحال بیعت ہوجانا بہتر ہے، ورنہ کم از کم کسی اللہ والے سے مشاورت اور اصلاح کا تعلق قائم رکھے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200717
تاریخ11-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں