بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برا کہنے والے کا حکم

سوال

 جو شخص حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو برا کہے، اور سب و شتم کرے اس شخص کے ایمان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب

حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برا کہنا اور سب و شتم کرنا نفاق کی علامت ہے حدیث شریف میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: علی سے منافق محبت نہیں رکھتا اور (کامل) مؤمن علی سے بغض اور دشمنی نہیں رکھتا۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے علی کو برا کہا اس نے درحقیقت مجھ کو برا کہا، لہٰذا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برا کہنے والا اور ان کو سب و شتم کرنے والا شخص بڑا فاسق و فاجر  اور اہل سنت و الجماعت سے خارج ہے۔

مشكاة المصابيح (3/ 1722)

''عن أم سلمة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يحب علياً منافق ولا يبغضه مؤمن» . رواه أحمد والترمذي وقال: هذا حديث حسن غريب إسناداً''۔

''وعنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من سب علياً فقد سبني» . رواه أحمد''۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200689
تاریخ10-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں