بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شیعہ کو غلطی سے زکاۃ دے دینا

سوال

 ایک شخص نے زکاۃ کی ر قم سے ایک کام والی کو گھر کا راشن ڈلوادیا ، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ شیعہ تھی تو اب اس کے لیے کیا حکم ہے ؟

جواب

اگر مذکورہ شیعہ عورت کے عقائد کفریہ ہیں تو اس شخص کی اتنی مقدارِ زکاۃ ادا نہیں ہوئی جتنا راشن اسے دیا ہے، اس کی رقم کے  بقدر زکاۃ دوبارہ ادا کرنا لازم ہوگا۔

فتاوی شامی(2/ 352):
'' (دفع بتحر) لمن يظنه مصرفاً (فبان أنه عبده أو مكاتبه أو حربي ولو مستأمناً أعادها)
(قوله: أو حربي) قال في البحر: وأطلق أي في الكنز الكافر فشمل الذمي والحربي، وقد صرح بهما في المبتغى''۔
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200673
تاریخ09-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں