بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 جُمادى الأولى 1448ھ 29 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قراءت کی غلطی سے نماز کا حکم

سوال

تراویح میں. ﴿ اُولٰئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ﴾  کی جگہ   ''اولئك هم شر البرية''  پڑھ لیا .نماز کا کیا حکم ہے ?

جواب

اگر کسی نے نماز میں ﴿ اُولٰئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ﴾  کی جگہ   ''اولئك هم شر البرية''  پڑھ لیا اور دورانِ نماز غلطی کی تصحیح بھی نہیں کی  تو  یہ ایسی غلطی ہے جس سے معنیٰ بالکل برعکس ہو گیا؛ اور اس غلطی  کی وجہ سے نماز فاسد ہو گئی۔ فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200649
تاریخ08-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں