بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مریض کے لیے روزے کا حکم

سوال

روزہ رکھنے سے کمزوری بڑھنے کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟

جواب

اگر روزے کی وجہ سے کسی مریض کی طبیعت زیادہ خراب  ہونے کا قوی تر  اندیشہ ہو اور ماہر دین دار ڈاکٹر بھی روزہ چھوڑنے کا مشورہ دے تو ایسی صورت میں مریض کے لیے روزہ چھوڑنے کی گنجائش ہو گی اور صحت یاب ہو نے کے بعد اس کی قضا لازم ہو گی، اگر مرض دائمی ہو اور صحت یابی  کی امید نہ ہو تو ہر روزے کے بدلے میں ایک صدقہ فطر کی مقدار فدیہ دینا لازم ہو گا۔ ارشادِ خداوندی تعالیٰ ہے: 

﴿ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضاً اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ﴾ ( البقرة :184)  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200641
تاریخ08-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں