بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جدہ کا رہائشی احرام کہاں سے باندھے؟

سوال

 ہم جدہ میں رہتے ہیں، اگر ہم مکہ میں جاکر احرام باندھ کرعمرہ شروع کریں تو کیا حکم ہوگا؟ یہاں پر کچھ علماء ہیں جوکہتے ہیں کہ حدودِ حرم میں احرام باندھنے  سے دم نہیں ہوگا،50۔60 ریال صدقہ ہوگا؟ کیا یہ درست ہے؟  مہربانی فرماکر قرآن اور احادیث کی روشنی میں جواب دیں!

جواب

جو شخص جدہ کا رہائشی ہو اور وہ حج و عمرہ کے علاوہ کسی دوسرے کام سے مکہ مکرمہ میں داخل ہونا چاہتا ہو تو اس کے لیے احرام کے بغیر مکہ میں داخل ہونا جائز ہے، اور اگر حج یا عمرہ کا ارادہ ہو تو ایسی صورت میں اس کے لیے احرام باندھ کر ہی مکہ میں داخل ہونا ضروری ہے، اگر وہ احرام کے بغیر مکہ میں داخل ہو گیا اور احرام باندھنے دوبارہ میقات پر بھی نہیں گیا تو اس پر دم لازم ہو گا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200639
تاریخ08-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں