بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عمرہ کا بدل نہیں ہے

سوال

کیا ١٠ سالہ بچی بدل عمرہ کی ادائیگی کرسکتی ہے، یعنی کسی مرے ہوے آدمی کے لیے؟

جواب

واضح رہے کہ حجِ بدل تو شرعاً مشروع ہے، البتہ عمرہ بدل یا بدل عمرہ کی اصطلاح کتبِ فقہ میں نہیں ملتی۔

صورتِ مسئولہ میں آپ کی منشا اگر ایصالِ ثواب کی غرض سے عمرہ کی ادائیگی کے بارے میں دریافت کرنا ہے تو  اس صورت میں مکلف یعنی عاقل بالغ شخص عمرہ کرکے اس کا ثواب مرحوم کو بخش سکتا ہے، نابالغ کے افعال کا ثواب چوں کہ اس کے والدین کے کھاتے میں شمار ہوتا ہے؛ لہذا اس کی طرف سے عمل کا ایصالِ ثواب معتبر نہ ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200633
تاریخ08-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں