بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تملیک کی تفصیل

سوال

''تملیک'' کے بارے میں مکمل معلومات درکار ہیں۔

جواب

کسی مستحقِ زکاۃ شخص کو بلا کسی عوض زکاۃ کی رقم کامالک بنادینا ''تملیک''  کہلاتا ہے، ہمارے عرف میں ''تملیک''  کہا جاتاہے: کسی مستحقِ زکاۃ شخص کو مالک بناکراس کے واسطہ سے کسی ایسے کام میں خرچ کرنا جہاں زکاۃ کی رقم نہ لگتی ہو ۔اس معنی میں تملیک  بلا ضرورتِ شدیدہ مخصوص شرائط کے بغیر درست نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200625
تاریخ07-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں