تملیک کی تفصیل
سوال
''تملیک'' کے بارے میں مکمل معلومات درکار ہیں۔
جواب
کسی مستحقِ زکاۃ شخص کو بلا کسی عوض زکاۃ کی رقم کامالک بنادینا ''تملیک'' کہلاتا ہے، ہمارے عرف میں ''تملیک'' کہا جاتاہے: کسی مستحقِ زکاۃ شخص کو مالک بناکراس کے واسطہ سے کسی ایسے کام میں خرچ کرنا جہاں زکاۃ کی رقم نہ لگتی ہو ۔اس معنی میں تملیک بلا ضرورتِ شدیدہ مخصوص شرائط کے بغیر درست نہیں۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
143909200625
تاریخ07-06-2018

