بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جانور بطورِ شرکت پالنے کے لیے دینا

سوال

اگر ہم کسی دوسرے شخص کو اپنے پیسوں سے بکرا/بکری  دلوائیں، اور اس کا یومیہ خرچہ بھی ہم دیں، اور اس جانورکا دودھ لیں ، اور جو بچے ہوں انہیں آدھا آدھا کردیں، کیایہ درست ہے؟

جواب

جانور بطورِ شرکت پالنے پر دینے کی مذکورہ صورت جائز نہیں ہے، دودھ اور بچے دونوں مالک کے ہوں گے، اور پالنے والے کو اجرت دی جائے گی،یعنی عام طورپر جانور کے چارہ وغیرہ کے علاوہ جانور پالنے اور رکھنے کی جواجرت بنتی ہے پالنے والااس اجرت کا مستحق ہوگا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200612
تاریخ07-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں