بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بغیر احرام کے مکہ میں داخل ہونے کا حکم

سوال

میں سعودی عرب جدہ میں ہوں، سوال یہ کرناتھا کہ اگر ہم عمرے کااحرام حدودِ حرم میں باندھیں تو کیاہم پر دم ہوگا؟

جواب

جدہ میں رہنے والے شخص کو حج یاعمرہ کی نیت سے مکہ جاناہو تو حدودِ حرم میں داخل ہونے سے پہلے احرام باندھنالازم ہے،بغیر احرام کے حدودِ حرم میں داخل ہوناجائز نہیں، اگر بغیر احرام کے حدودِ حرم میں داخل ہوگیا اور دوبارہ حدودِ حرم کی جانب واپس آکر احرام نہ باندھاتو دم لازم ہوگا۔ البتہ اگر یہ شخص حج و عمرہ کی نیت کے بغیر کسی اور کام کے لیے  مکہ مکرمہ میں داخل ہونا چاہتا ہے تو اس کے لیے احرام کے بغیر مکہ میں داخل ہونا جائز ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200608
تاریخ07-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں