بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عذر کی وجہ سے روزہ توڑنے پر کفارے کا حکم

سوال

ایک آدمی کو ڈاکٹر نے Kidney  میں تکلیف کی وجہ سےروزہ رکھنے سے منع کیا تھا، لیکن اس نے پھر بھی روزہ رکھ لیا، جب پیشاب میں تکلیف ہوئی تو اس نے پانی پی کر روزہ توڑ لیا، اب کیا اس کو ساٹھ روزے رکھنا ہوں گے؟

جواب

اگر مذکورہ شخص  واقعۃً  سخت تکلیف میں تھا اور پانی نہ پینے سے تکلیف بڑھ جانے کا خدشہ تھا؛ اس لیے  اس نے  پانی پیا  تو ایسے شخص پر اس روزے کی صرف قضا لازم ہو گی، کفارہ (60 روزے) لازم نہ ہو گا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200590
تاریخ06-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں