بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا حکم

سوال

 ہم لوگ جس جگہ کام کرتے ہیں وہاں پر بیٹھ کر پیشاب کرنے کی سہولت موجود نہیں ہے، اور جہاں پر بیٹھ کر پیشاب کرنے کی سہولت موجود ہے وہاں بار بار ہم لوگ جا نہیں سکتے!

جواب

شریعتِ مطہرہ میں بیٹھ کر ہی پیشاب کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، بغیر عذرکھڑے ہوکر پیشاب کرنا مکروہ ہے۔  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول بھی بیٹھ کر ہی پیشاب کرنے کا تھا اور آپ ﷺ نے کھڑے ہوکر پیشاب کرنے سے منع فرمایاہے ؛ اس لیے پہلی کوشش تو یہی کریں کہ جس جگہ بیٹھ کر پیشاب کرنے کی سہولت  موجود ہے وہیں جائیں، لیکن اگر بار بار وہاں نہ جاسکتے ہوں تو  مجبوری میں دوسری جگہ چلے جائیں اور اس بات کا پورا خیال رکھیں کہ پیشاب کے چھینٹے بدن یا کپڑوں پر نہ آئیں اور اگر چھینٹے آ  جائیں تو اس کو دھو لیں، پیشاب کی چھینٹیں لگی رہنے کی صورت میں اگر وہ ایک درہم کی مقدار یا اس سے زیادہ ہوں تو ایسے کپڑوں میں نماز ادا کرنا جائز نہیں ہوگا۔

سنن الترمذي ت بشار (1/ 62)
'' عن عائشة، قالت: من حدثكم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يبول قائماً فلا تصدقوه ، ما كان يبول إلا قاعداً ''.
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200589
تاریخ06-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں