بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غریب کا صدقہ لے کر اس رقم سے مال دار کو کھانا کھلانا

سوال

ہمارے پڑوس میں ایک بنگالن بیوہ ، بے سہارا خاتون رہتی ہیں، لوگ انہیں صدقہ خیرات دیتے ہیں، وہ جب اکثر سالن بناتی ہیں یا چاول وغیرہ تو اپنی خوشی سے ہمارے گھر دے دیتی ہیں تو ایسے میں ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ وہ کھا لینا چاہیے یا نہیں؟

جواب

بصورتِ مسئولہ اگر لوگ آپ کی پڑوسن کو  صدقہ دیتے ہیں اور وہ آپ کو اس میں سے سالن وغیرہ بنا کر دیتی ہیں تو آپ کے لیے یہ کھانا کھانا جائز ہے، کیوں کہ جب وہ صدقہ وصول کرلیتی ہیں تو وہ مالک بن جاتی ہیں، اب ان کا کھانا بنا کردینا ہدیہ شمار ہوگا اور صاحبِ حیثیت لوگوں کے لیے بھی اسے استعمال کرنا جائز ہوگا۔ایک مرتبہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت ہدیہ کیا جو ان کو بطورِ صدقہ دیا گیا تھا اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔

صحيح مسلم (2/ 755)
''عن قتادة، سمع أنس بن مالك، قال: أهدت بريرة إلى النبي صلى الله عليه وسلم لحماً تصدق به عليها، فقال: «هو لها صدقة، ولنا هدية»''۔
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200587
تاریخ06-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں