بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گھر میں کام کرنے والی خواتین کی تنخواہ کا حکم

سوال

عورت کی کمائی حلال ہے یا حرام ہے جیسا کہ آج کل ڈیفنس کے اندر لوگوں کے گھروں میں ماسیاں کام کر کے تنخواہ لیتی ہیں؟

جواب

عورت اگر کوئی جائز کام کرے تو اس کی تنخواہ حلال ہے، لہٰذا گھروں میں کام کرنےوالی خواتین کی کمائی بھی حلال ہے:

''(والثاني) وهو الأجير (الخاص) و يسمي أجير وحد ( وهو من يعمل لواحد عملاً مؤقتاً بالتخصيص و يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل، كمن استؤجر شهراً للخدمة أو) شهراً (لرعي الغنم)''۔ (شامي، كتاب الاجارة، ٦/ ٦٩، ط: سعيد)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200578
تاریخ05-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں