بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پلاٹ پر زکاۃ کا حکم

سوال

میری ملکیت میں25لاکھ کا پلاٹ ہے جو کہ میرے والد نے میرے نام پر لیا ہے جس کو 8سے 10سال گزر چکے ہیں، اس پر زکاۃ دینی پڑے گی کہ نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ پلاٹ خریدنے کے بعد اگر والد صاحب نے آپ کی ملکیت میں دے دیا تھا تو اس صورت میں آپ پر اس پلاٹ کے حوالے سے زکاۃلازم نہیں ہوگی، البتہ اگر پلاٹ خریدنے کے بعد انہوں نے آپ کی ملکیت میں نہیں دیا تھا تو پھر دیکھا جائے گا کہ اگر خریدتے وقت  ان کی نیت فروخت کرکے نفع کمانے کی تھی تو مذکورہ پلاٹ کی ہر سال کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے زکاۃ ادا کرنی ہوگی اور اگر اس وقت کوئی نیت نہیں تھی یا گھر تعمیر کرکے رہنے کی نیت تھی تو مذکورہ پلاٹ پر  زکاۃ واجب نہیں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200572
تاریخ05-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں