بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم سلام کرے تو اس کا جواب دینا چاہیے کہ نہیں؟

سوال

اگر کوئی غیر مسلم سلام کرے تو اس کا جواب دینا چاہیے کہ نہیں؟

جواب

اگر کوئی غیر مسلم سلام کرے تو اس کا جواب دینے میں حرج نہیں ہے، البتہ غیر مسلم کو جواب دیتے ہوئے  صرف'' وعلیکم '' کہنا چاہیے۔

الدر المختار شرح تنوير الأبصار في فقه مذهب الإمام أبي حنيفة - (6 / 412)
'' ولو سلم يهودي أو نصراني أو مجوسي على مسلم فلا بأس بالرد، ( و ) لكن ( لا يزيد على قوله وعليك )، كما في الخانية'' ۔
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200550
تاریخ04-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں