بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سفر میں روزہ رکھنا

سوال

میں پاکستان سےعمرہ کے لیے جا رہا ہوں، کیا میں دورانِ سفر روزہ رکھوں یا نہیں؟

جواب

اگر سفر کے دوران روزہ رکھنے کی سہولت ہے، دشواری نہیں ہے تو روزہ رکھ لینا بہتر ہے، اور اگر روزہ رکھنے میں مشقت اور دشواری ہے تو اس صورت میں روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے اور بعد میں اس کی قضاکی جائے گی۔یاد رہے کہ شرعی طور پر اس شخص کے لیے سفر میں روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے جو صبح صادق کے وقت سفر میں ہو اور اگر کوئی شخص صبح صادق کے وقت سفر میں نہ ہو اس کے لیے روزہ چھوڑناجائز نہیں اگرچہ دن میں اس کا سفر میں جانےکاارادہ ہو۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200540
تاریخ04-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں