بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح پڑھانے کی وجہ سے روزہ نہ رکھنے والے کی امامت کاحکم

سوال

  بعض حفاظ ایسے ہیں کہ جو رمضان میں روزے نہیں رکھتے اور بہانہ یہ بناتے ہیں کہ دن میں روزہ رکھ کر رات کو تراویح پڑھانا مشکل ہوتا ہے، ایسے حفاظ کا تراویح کی امامت کرنا یا ان کو امامت کے لیے منتخب کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

ایسے لوگ جو قصداً رمضان المبارک کا روزہ چھوڑ دیتے ہیں وہ شرعاً فاسق ہیں، ان کی امامت میں نماز ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے، اگر یہ لوگ روزہ رکھ کر تراویح نہیں پڑھاسکتے تو تراویح نہ پڑھائیں، لیکن روزہ رکھیں، کیوں کہ روزہ فرض ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200518
تاریخ03-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں