بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آدھی رات کے بعد عشاء پڑھنا

سوال

کہا جاتا ہے کہ رات بارہ بجے کے بعد عشاء کی نماز مکروہ ہے،گھڑی کے مطابق بارہ بجے تو انگریزوں کا ٹائم ہے،تو عشاء کی نماز اگر رات دو،تین بجے پڑھیں تو وہ مکروہ ہوگی یا ادا ہوجائے گی؟

جواب

بغیر کسی عذر کے آدھی رات کے بعد عشاء کی نماز پڑھنا مکروہ ہے،آدھی رات کا وقت چاہے بارہ بجے ہو یا اس سے پہلے ہوجائے۔ اگر بغیر عذر کے رات دو تین بجے عشاء کی نماز ادا کی تو نماز تو ادا ہوجائے گی، لیکن مکروہ ہوگی۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200478
تاریخ01-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں