بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بریلوی امام کے پیچھے نماز

سوال

ہمارے گھر کے قریب بریلویوں کی مسجد ہے،اور ہم اس مسجد کے قریب ایک مکان میں تبلیغی اعمال کرتے ہیں،تو کیا ہم اس مسجد میں نماز پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

بریلوی امام کی اقتدا میں نماز کے جواز و عدمِ جواز کا تعلق اس کے عقیدے اور نظریے سے ہے،اگر اس کا عقیدہ حد کفر و شرک کو نہ پہنچا ہو تو اس کی اقتدا میں نماز جائز ہوگی،اور اگر اس کا عقیدہ حد کفر و شرک تک پہنچ چکا ہو تو اس کی اقتدا میں نماز جائز نہ ہوگی۔ ہمارے اکابر بریلوی حضرات کے بعض عقائد کی بنا پر ان کی گمراہی کا فتویٰ دیتے ہیں، عام حالات میں ان کے کفر کا فتویٰ نہیں دیاجاتا، کیوں کہ کفرکا معاملہ انتہائی نازک ہے؛ اس لیے جب تک کسی بدعتی کے متعلق یقین سے معلوم نہ ہوجائے کہ اس کے عقائد کفریہ ہیں بوقتِ مجبوری اس کی اقتدا میں نماز ادا کی جاسکتی ہے، لیکن بلاضرورت اس کا معمول بنالینا مکروہ ہے، اس لیے اگر آپ کے علاقے میں اہلِ حق کی مسجد موجود ہے (خواہ کچھ فاصلے پر ہو) تو اس میں باجماعت نماز ادا کرنے کا اہتمام کریں، اور اگر آپ کے علاقے میں اہلِ حق کی کوئی مسجد نہیں ہے تو اہلِ علاقہ کو قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے اپنی مسجد بنانی چاہیے ؛ تاکہ بلاکراہت باجماعت نماز ادا کی جاسکے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200475
تاریخ01-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں