بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جمعہ کی نماز کی رکعتوں کی تعداد

سوال

جمعہ میں کتنی رکعتیں ہیں؟ ۱۲ یا  ۱۴؟ اگر دو نفل شامل ہیں ظہر کی طرح تو اس کا جزئیہ چاہیے، کیوں کہ ظہر اور جمعہ کی سنتیں مختلف ہیں.

جواب

جمعہ کی نماز میں کل بارہ رکعتیں ہیں۔ چار سنت مؤکدہ فرض سے پہلے، دو رکعت فرض، چار رکعت سنت مؤکدہ فرض کے بعد اور  اس کے بعد مزید دو رکعت (بنا بر قولِ راجح)  سنت غیر مؤکدہ۔(4+2+4+2 = 12 )۔باقی احادیث میں جمعہ کے بعد نفل کی کوئی متعینہ مقدار مذکور نہیں ہے، اس لیے  جمعہ کے ساتھ نفل کا نہ کوئی اختصاص ہے اور نہ نفل کی کوئی تحدید ہے، آدمی کی مرضی ہے جتنی چاہے پڑھے۔

''فتاویٰ رحیمیہ'' میں ہے:

''ظاہر روایت میں جمعہ کے بعد چار رکعتیں ایک سلام کے ساتھ سنت مؤکدہ ہیں ، اور امام ابو یوسفؒ کے نزدیک چھ رکعتیں ہیں؛ لہذا جمعہ کے بعد چار رکعتیں ایک سلام سے سنت مؤکدہ سمجھ کر پڑھے، اور اس کے بعد دور کعتیں سنت غیر مؤکدہ سمجھ کر پڑھی جائیں، جو چار پر اکتفا کرتا ہے وہ قابلِ ملامت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اﷲ تحریر فرماتے ہیں :
(سوال )کتنی نمازیں سنت مؤکدہ ہیں ؟
(الجواب)……اور چاررکعتیں (ایک سلام سے) نماز جمعہ کے بعد …الخ دوسری جگہ تحریر فرماتے ہیں ۔
(سوال )کتنی نمازیں سنت غیر مؤکدہ ہیں ؟
(الجواب)……اور جمعہ کے بعد سنت مؤکدہ کے بعد دو رکعتیں ۔(تعلیم الا سلام حصہ چہارم )
''امداد الفتاویٰ'' میں ہے:
(سوال )جمعہ کی پہلی سنتیں مؤکدہ ہیں یا نہیں؟ اور بعد کی سنتوں میں چار مؤکدہ ہیں یا دو یا سب ؟
(الجواب)جمعہ کی پہلی سنتیں مؤکدہ ہیں ، کذا في الدر المختار اور بعد کی چار مؤکدہ ہیں کذا في الدر المختار.(امداد الفتاویٰ ج۱ ص ۶۷۸،ص۶۷۹ مطبوعہ دیو بند ، فقط واﷲ اعلم بالصواب''۔(فتاویٰ رحیمیہ ، باب الجمعہ و العیدین،ج:۶ ؍۱۱۱ ،ط:دار الاشاعت) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200463
تاریخ01-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں