بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے میں غسل کا وقت، نصف النہار شرعی کی تعیین

سوال

روزے کی حالت میں  کس وقت تک غسل کیا جاسکتا ہے؟

نصف النہار کا شرعی حساب سے متعین وقت کیا ہوگا؟

جواب

1۔۔ رمضان المبارک میں غسلِ جنابت صبح صادق  کے بعد کرنے سے یا غسل میں تاخیر کرنے  روزہ فاسد نہیں ہوتا ،  روزہ کے لیے جنابت سے پاک ہونا ضروری نہیں ہے،  البتہ غسل  جنابت میں اتنی تاخیر کرنا  کہ نماز کا وقت نکل جائے اور نماز قضا ہوجائے سخت گناہ ہے، اور اس سے روزہ بھی مکروہ ہوجائے گا۔ اور جنابت کے علاوہ عام غسل کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے۔

2۔۔ صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک  کل وقت کے نصف (آدھے) کو نصف النہار شرعی کہا جاتا ہے،  آج کل نصف النہار شرعی  11:46  منٹ پر ہے، ساڑھے گیارہ سے تک روزہ کی نیت کرلینی چاہیے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200450
تاریخ01-06-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں