بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورتوں کا قرآن خوانی کے لیے گھر سے نکلنا

سوال

کیا عورتیں قرآن خوانی کے لیے گھر سے باہر جاسکتی ہیں؟ اسی طرح دعا کے لیے نکل سکتی ہیں؟

جواب

ایصالِ ثواب یا کسی جائز مقصد کے لیے انفرادی طور پر قرآن مجیدکی تلاوت کرنا نہ صرف جائز، بلکہ مستحب ہے، لیکن اس کے لیے اہتمام کرکے اجتماع ثابت نہیں،خصوصاًعورتوں کا اس مقصد کے لیےاپنے گھروں سے نکلنا اور اجتماع کرنا اور بھی قبیح ہے، یہی حکم صرف دعاکے لیے نکلنے کا بھی ہے۔ اگر اتفاقاً گھر کے افراد یا مرد کسی جگہ جمع ہوں اور وہ تلاوت کرکے ایصالِ ثواب کریں تو درست ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200418
تاریخ31-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں