بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حمل ضائع ہونے کی صورت میں آنے والا خون کا حکم

سوال

تقریباًچالیس دن کا حمل ضائع ہو گیا،صفائی کروانے کے بعد جو خون ہے اس کا کیا حکم ہے؟نفاس یا استحاضہ؟

جواب

مذکورہ صورت میں جاری ہونے والا خون اگر تین دن رات یا اس سے زیادہ آئے اور اس سے پہلے عورت پندرہ دن پاک رہ چکی ہو تو یہ حیض کا خون ہوگا،اور اگر تین دن سے کم ہو یا اس  سے پہلے پندرہ دن پاکی نہ رہی ہو تو پھر یہ خون استحاضہ کا ہوگا۔

فتاوی شامی (1/ 302): 
''(ظهر بعض خلقه كيد أو رجل) أو أصبع أو ظفر أو شعر، ولا يستبين خلقه إلا بعد مائة وعشرين يوماً (ولد) حكماً (فتصير) المرأة (به نفساء والأمة أم ولد ويحنث به) في تعليقه وتنقضي به العدة، فإن لم يظهر له شيء  فليس بشيء، والمرئي حيض إن دام ثلاثاً وتقدمه طهر تام وإلا استحاضة''۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200412
تاریخ30-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں