بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو لاکھ روپے قرض میں دے کر صدقہ فطر لینے کا حکم

سوال

ایک شخص 2 لاکھ روپےکا قرض خواہ ہے اور فی الوقت اس کا کوئی ذریعہ آمدن خاص نہیں ہے، اگر ہے بھی تو اتنا ہے کہ بمشکل گزارا ہوتا ہے.کیا ایسے شخص کو صدقہ فطر دینا جائز ہے ?

جواب

اگر اس شخص کو اپنا قرض واپس ملنے کی امید ہے یعنی مقروض انکارنہیں کرتاتو یہ شخص دو لاکھ روپے کا مالک ہے اورجو آدمی دو لاکھ روپے کا مالک ہو وہ صدقہ فطر لینے کا اہل نہیں ہے، یہ اپنے مقروض سے رقم کی فوری واپسی کا مطالبہ کرے ، بصورتِ دیگر اس کی ضروریات کےلیے عطیہ یا نفلی صدقہ سے اس کی مدد کی جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200395
تاریخ30-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں