بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عشاء کا وقت داخل ہونے سے پہلے اذان اور نماز ادا کرنا

سوال

پشاورمیں عشاء کاوقت اوقاتِ صلات کے نقشوں کے مطابق نوبج کر تیرہ منٹ ( 9:13 ) پرداخل ہوتاہے، لیکن اس کےباوجودبعض مساجد میں پونے نو (8:45 )بجے اذان ہوتی ہے اور نو (9:00 ) بجے جماعت ہوتی ہے، کیایہ اذان اور نمازہوجاتی ہے یااس کی قبل ازوقت ہونے کی وجہ سے اعادہ ضروری ہے ؟

جواب

اگر  واقعۃً معتمد نقشوں کے مطابق پشاور میں عشاء کا وقت نوبج کر تیرہ منٹ ( 9:13 ) پرداخل ہوتاہے، لیکن اس کےباوجودبعض مساجد میں پونے نو (8:45 )بجے اذان اور نو (9:00 ) بجے جماعت ہوتی ہے تو اذان اور نماز کا اعادہ ضروری ہے۔

البتہ یہ یقین دہانی ضرو ری ہےکہ جن نقشوں کا آپ حوالہ دے رہے ہیں وہ درست اور معتمد ہیں۔

الدر المختار (1 / 385):

" ( فيعاد أذان وقع ) بعضه ( قبله ) كالإقامة خلافاً للثاني في الفجر".

الدر المختار (1 / 361):

"( و ) وقت ( العشاء والوتر منه إلى الصبح و )". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200389
تاریخ30-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں