بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح کے بعد وتر باجماعت ادا نہ کیے رات کے آخری حصہ میں وترکی جماعت کرنا

سوال

وتر اگر تراویح کے بعد باجماعت نہیں پڑھے تو کیا صبح سحری کے وقت باجماعت وتر پڑھ سکتے ہیں یا انفرادی طور پر پڑھنے ہیں؟

جواب

رمضان المبارک میں وتر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا افضل ہے، اور اس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے، لہذا اگر تراویح کے بعد جماعت کے ساتھ وتر نہ پڑھ سکیں تو سحری سے پہلے بھی جماعت کے ساتھ وتر پڑھنا افضل ہے، اگر انفرادی پڑھ لیے تب بھی نمازِوتر ادا ہوجائے گی۔ 

مراقی الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 144)
'' ويوتر بجماعة في رمضان فقط، وصلاتة مع الجماعة في رمضان أفضل من أدائه منفرداً آخر الليل في اختيار قاضيخان، قال: هو الصحيح''۔
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200349
تاریخ29-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں