بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زیر ناف اور رانوں کے بال کاٹنے کی حد

سوال

کیا رانوں کے بال کی حد مقرر ہے؟

جواب

ناف سے لے کررانوں کی جڑوں تک اور پیشاب پاخانہ کی جگہ کے اِردگرد زیرِناف بال مونڈنے چاہییں، رانوں کے بالوں پر جہاں نجاست لگنے کا زیادہ امکان رہتاہے وہاں تک بال کاٹیں۔ اس کے علاوہ رانوں کے بال کاٹنے کی ضرورت نہیں ، اگر کاٹ لیے تب بھی مضائقہ نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200289
تاریخ28-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں