بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اذلان نام رکھنا

سوال

اذلان نام رکھنا کیسا ہے؟ اور اس کے معنی کیا ہیں؟

جواب

اردو، عربی اور فارسی تینوں زبانوں کی لغت کی کتابوں میں  تلاش کرنے کے باوجود ’’اذلان‘‘  کا معنی نہیں مل سکا، بظاہر یہ کسی اور زبان کا لفظ ہے۔ البتہ انٹرنیٹ میں تلاش کرنے سے یہ پتا چل رہا ہے کہ اس لفظ کا معنی ہے: شیر، بہادر۔ اور یہ ترکی زبان کا لفظ ہے۔ اسی طرح ملائی زبان میں بھی اس کا استعمال پایا جاتاہے۔ بہرحال ''اذلان'' نام رکھنا جائز تو ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ بچوں کے نام حضرات انبیاء کرام علیہم السلام و التسلیمات اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ناموں پر رکھے جائیں یا کم از کم عربی کے اچھے معنی والے نام رکھے جائیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200279
تاریخ27-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں