بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دودھ میں پانی ملانے کا حکم

سوال

ہوٹل کے کام میں دودھ میں پانی ملانا کیا جائز ہے؟

جواب

دودھ میں پانی ملانے سے متعلق اصولی بات یہ ہے کی: دودھ میں پانی ملاکر بیچنے کی ممانعت اُس وقت ہے جب کہ پانی ملے ہوئے دودھ کو خالص دودھ کہہ کر بیچا جائے اَگر گاہک کو پہلے ہی بتادیا جائے کہ اس میں پانی ملا ہوا ہے اور اُس کی اتنی قیمت ہے، اور گاہک اس کو بخوشی خریدے، تو شرعاً اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے، اور اس طرح کے کاروبار میں کوئی حرج نہیں ہے۔

باقی ہوٹل کےکام میں دودھ میں پانی ملانے کا یہ مطلب ہے کہ چائے خالص دودھ کی بجائے ملاوٹ والے دودھ کی بناکر دی جائے تو اس کا بھی یہی حکم ہے اگر گاہک کے علم میں ہے کہ پانی ملے دودھ کی چائے تیار کی جاتی ہے تو کوئی حرج نہیں، لیکن اسے خالص دودھ پتی کہہ کر فروخت کرنا دھوکہ دہی میں آئے گا ۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 143909200260
تاریخ27-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں