بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح کی کچھ رکعتیں چھوٹنے کی صورت میں وتر جماعت سے پڑھے یا پہلے تراویح مکمل کرے؟

سوال

بعد میں تراویح میں شامل ہونے والا وتر جماعت کے ساتھ پڑھے گا یا اکیلے?

جواب

جو شخص تراویح  کی کچھ رکعت ہو جانے کے بعد پہنچا تو وہ پہلے تنہا فرض پڑھ کر امام کے ساتھ تراویح کی جماعت میں شریک ہوجائے، جب امام کی تراویح پوری ہوجائے تو وہ امام کے ساتھ وتر کی جماعت میں شامل ہوجائے اور بعد میں بقیہ تراویح پوری کرلے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 43)

'' (ووقتها بعد صلاة العشاء) إلى الفجر (قبل الوتر وبعده) في الأصح، فلو فاته بعضها وقام الإمام إلى الوتر أوتر معه ثم صلى ما فاته''.فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200223
تاریخ25-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں