بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح بیس رکعت ہی ہے

سوال

کیا آ ٹھ رکعت ترا و یح قرآن و حد یث سے ثابت ہے؟

جواب

احادیث سے بیس رکعت تراویح کا ثبوت ملتا ہے, نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ماہ رمضان میں وتر کے علاوہ  بیس رکعت تراویح پڑھا کرتے تھے, جیساکہ ''مصنف ابن ابی شیبہ'' میں ہے:

''عن ابن عباس رضي الله عنه: أن النبي صلی الله عليه وسلم يصلي في رمضان عشرين ركعةً سوي الوتر''. (كتاب صلاة التطوع والإمامة وأبواب متفرقة، كم يصلي في رمضان ركعةً ٢/ ٢٨٦، ط: طيب اکیدمي)

(المعجم الأوسط للطبراني، رقم الحديث: ٧٨٩، (١/ ٢٣٣) و رقم الحديث: ٥٤٤٠، (٤/ ١٢٦) ط: دار الفكر)

بیس رکعت تراویح پر تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجماع ہے، اور تمام فقہاء کے نزدیک بھی بیس رکعت تراویح سنت مؤکدہ  ہے  اوراس کاتارک گناہ گار ہے۔

''مرقاۃ المفاتیح'' میں ہے:

''لكن أجمع الصحابة علی أن التراويح عشرون ركعةً''. (كتاب الصلاة، باب قيام شهر رمضان، ٣/ ٣٨٢، ط: رشيدية) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200212
تاریخ25-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں