چار رکعت تراویح ایک سلام سے، روزے میں سوئمنگ پول میں غوطہ لگانا
سوال
چار چار تراویح جماعت کے ساتھ, یا علیحدہ علیحدہ پڑھنا کیسا ہے ؟
سوئمنگ پول یا نہر میں روزے کی حالت میں غوط لگانے سے روزہ کا کیا حکم ہے ؟
جواب
1۔ تراویح کی نماز چار رکعات ایک سلام سے پڑھنا جائز تو ہے، لیکن سنت نہیں ہے، دو دو رکعت پر سلام پھیرنا بہتر اور افضل ہے، اس لیے تراویح کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھنی چاہیے چاہے جماعت کے ساتھ ہو یا اکیلے۔
2۔ روزے کی حالت میں سوئمنگ پول یا نہر میں غوطہ لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، بشرطیکہ پانی منہ یا ناک کے راستے سے حلق سے نیچے نہ اترے ، ورنہ روزہ ٹوٹ جائے گا اور قضا لازم ہوگی۔جو شخص تیراکی اچھی طرح نہ جانتا ہو اس کے لیے روزے کی حالت میں پانی میں غوطہ لگانا مناسب نہیں ؛ کیوں کہ پانی حلق کے راستے اندر جانے کا اندیشہ ہوگا۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

