بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نظروں کی حفاظت کا طریقہ

سوال

آج کل کے ماحول میں نظروں کی حفاظت بہت مشکل ہے ،کوئی وظیفہ  یاطریقہ بتائیں ۔

جواب

قرآن کریم کی سورۂ نور آیت 30 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :

﴿ قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ۭ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ ﴾

ترجمہ : آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ۔ یہ ان کے لیے زیادہ صفائی کی بات ہے بے شک اللہ تعالیٰ کو سب خبر ہے جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں ۔(بیان القرآن )

اس آیت مبارکہ سے معلوم ہواکہ اپنی نگاہوں کونیچی اور پست رکھنا ہی بدنظری سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔ اور اگر کبھی اچانک کسی اجنبی پر نگاہ پڑجائے تو فوراً اپنی نگاہ پھیر لینی چاہیے ، جیساکہ حدیث شریف میں ارشا دہے:

'' عن بريدة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي : " يا علي لا تتبع النظرة النظرة فإن لك الأولى وليست لك الآخرة''۔

ترجمہ:  حضرت بریدہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ علی! نظر پڑ جانے کے بعد پھر نظر نہ ڈالو (یعنی اگر کسی عورت پر ناگہاں نظر پڑجائے تو پھر اس کے بعد دوبارہ اس کی طرف نہ دیکھو )؛ کیوں کہ تمہارے لیے پہلی نظر تو جائز ہے ( جب کہ اس میں قصد و ارادہ کو دخل نہ ہو) مگر دوسری نظر جائز نہیں ہے ۔

اس حدیثِ مبارک سے معلوم ہواکہ اگر کبھی ناگہاں کسی اجنبی پر نظر پڑبھی جائے توآدمی کو اپنی نظریں جمائے رکھنا جائز نہیں، بلکہ فوراً اپنی نگاہوں کو پھیر لیناچاہیے۔یہی حفاظتِ نظر کا طریقہ ہے۔کسی اللہ والے سے اصلاحی تعلق قائم کریں تا کہ گناہوں سے حفاظت میں معاونت ہو۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200187
تاریخ24-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں