بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جھوٹ سے بچنا چاہیے

سوال

کیا بیوی سے چھپانے کے لیے کہ  تنخواہ یا بینک اکاؤنٹ میں کتنے پیسے ہیں جھوٹ بولا جا سکتاہے؟ تاکہ وہ فضول خرچی کی خواہشات نہ کرے۔

جواب

واضح رہے کہ جھوٹ بولنا مسلمان کی شان کے خلاف اور کبیرہ گناہ ہے ، جس سے ہر صورت بچنا ضروری ہے۔  مسئولہ صورت میں بیوی کو تنخواہ یا اپنی جمع پونجی کے بارے میں بتانا شرعاً  مرد کے ذمہ چوں کہ  ضروری نہیں ہے ؛ لہذا اس کو اس سے ناواقف رکھنے کے لیے  کوئی  مبہم (گول مول) بات کی جاسکتی ہے، مگر جھوٹ نہیں بولاجاسکتا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200158
تاریخ24-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں