بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ہندو کی داڑھی شیو کرنے کی اجرت

سوال

اگر حجام کسی ہندو کی داڑھی شیو کرے (مونڈے) تو اس کے بدلہ میں جو اُجرت ملے وہ حلال ہوگی یا حرام؟

جواب

داڑھی مونڈنا (شیو کرنا ) بعینہٖ معصیت (گناہ) ہے، جیسے مسلمان کی داڑھی مونڈنا جائز نہیں، اسی طرح کسی کافر کی داڑھی مونڈنا اور اس کی اجرت لینا بھی ناجائز ہے، لہٰذا ہندو کی داڑھی مونڈنے (شیو کرنے ) پر جو اجرت ملے گی وہ حرام ہوگی۔فتاویٰ مؐحمودیہ میں ہے:

’’سوال : 8249:  زید کو غیر مسلموں کی داڑھی مونڈنی کیسی ہے ؟

جواب : وہ بھی جائز نہیں ہے ‘‘۔(فتاویٰ محمودیہ جلد 17 ،ص: 122-123 ) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200149
تاریخ23-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں