بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مشترکہ فلیٹ پر زکاۃ کا حکم

سوال

 میر ااورمیری بہن کامشترکہ فلیٹ ہے جس کی مالیت 14َََ،5 لاکھ ہے۔ 10 لاکھ روپے ادا کردیے ہیں، باقی رقم نہیں ہے، بلڈر سے یہ طے پایا ہے کہ وہ ہمیں قبضہ دے گا، ہم اس فلیٹ کو فروخت کرکے اس کی بقایا رقم ادا کریں گے، اب اس فلیٹ کی زکاۃ کا کیا حکم ہے؟ یہ فلیٹ مال کو بڑھانے کے لیے خریداتھا؟

جواب

مکان کی موجودہ مالیت لگا کر جو ََ رقم بلڈر کو دینی ہے وہ منہا کرکے  باقی رقم پر زکاۃ ادا کی جائے گی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200145
تاریخ23-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں