بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جس کی زبان میں لکنت ہو اس کی امامت کا حکم

سوال

بندہ حافظ ہے، مگر زبان میں لکنت ہے ۔ بندہ اپنے لحاظ سے قران کے حروف پورے ادا کر رہا ہے، لیکن سننے والوں کو بہت سے حروف کی ادائیگی معلوم نہیں ہو رہی، گویا ان کے حساب سے حافظ بہت سے حروف کھا رہا ہے، اب اس حافظ کے لیے کیا حکم ہے یہ اپنی تلاوت جاری رکھے ؟ حافظ کو قرآن مجید کی بے ادبی اور معنی کی تبدیلی کا اندیشہ ہے ، اور ایسے حافظ کو تراویح کی امامت کرانی چاہیے؟

جواب

صحیح خواں کی نماز لکنت والے کے پیچھے فاسد ہوجاتی ہے، نیز قراءت کے الفاظ میں کمی بیشی کی وجہ سے نماز کے فساد کا اندیشہ بھی ہے؛ اس لیے صورتِ مسئولہ میں راجح اور احوط یہی ہے کہ آپ کی امامت میں نماز صحیح نہ ہوگی، قابلِ اعادہ ہوگی، لہٰذا آپ نماز  میں امامت نہ کریں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200132
تاریخ23-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں