بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ہدیہ کے نام سے زکاۃ دینا

سوال

کیا غریب کو فدیہ دیتے وقت یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ فدیہ یا زکاۃ وغیرہ کی رقم ہے ؟ اگر بتانا ضروری ہے، لیکن کسی نے مسئلہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے نہ بتایا تو کیا اس کا یہ فدیہ وغیرہ ادا ہو جائے گا یا نہیں؟

جواب

کسی غریب کو زکاۃ یا فدیہ کی رقم دیتے ہوئے یہ بتانا لازم نہیں ہے کہ یہ زکاۃ کی رقم ہے، بلکہ مستحقِ زکاۃ غریب کو زکاۃ کی رقم ہدیہ کے نام سے دی جائے تو بھی زکاۃ ادا ہوجائے گی، بشرطیکہ زکاۃ ادا کرنے والے کے دل میں زکاۃ  یا فدیہ  دینے کی نیت ہو۔

الفتاوى الهندية (1/ 171)

'' ومن أعطى مسكيناً دراهم وسماها هبةً أو قرضاً ونوى الزكاة فإنها تجزيه، وهو الأصح، هكذا في البحر الرائق ناقلاً عن المبتغى والقنية''۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200131
تاریخ23-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں