بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مریض کے لیے تراویح کی نماز کا حکم

سوال

کیا بیماری کی حالت میں تراویح چھوڑ سکتے ہیں یا کم پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

اس کی چند صورتیں ہیں:

1۔ اگر مریض کے لیے مسجد میں جماعت کے ساتھ تراویح پڑھنے میں کسی قسم کی تکلیف نہ ہو تو اس کے لیےمسجد میں جماعت کے ساتھ  تراویح پڑھنا افضل ہے،اگر کھڑے ہوکرتراویح  نہیں پڑھ سکتا تو بیٹھ کر پڑھ لے ،بیٹھنے میں بھی کوئی خاص ہیئت اختیار کرنا اس پر لازم نہیں، جس طرح ممکن ہو بیٹھے، تاکہ جماعت اورتراویح میں ختم قرآن  دونوں عبادتوں کا ثواب مل جائے۔

2۔   اگر مریض کے لیے مسجد میں جماعت سے تراویح کی نماز پڑھنا ممکن نہیں تو وہ گھر میں اپنی انفرادی نماز تراویح پڑھے۔

3۔ اگر مرض اتنا بڑھ گیا کہ گھر میں بھی کسی ہیئت میں نماز تراویح  پڑھنا ممکن نہیں تو نماز تراویح نہ پڑھنے کی اجازت ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200103
تاریخ22-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں